پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا موجودہ منظرنامہ: جانیں کہ یہ آپ کی زندگی کیسے بدل سکتا ہے

webmaster

대체에너지의 국내 보급 현황 - **Prompt 1: "A serene and bustling Pakistani urban neighborhood, viewed from a slightly elevated per...

السلام علیکم! میرے پیارے دوستو، امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہم سب کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے – جی ہاں، میں بات کر رہا ہوں بجلی کی، اور خاص طور پر ملک میں متبادل توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی۔ آپ بھی میری طرح اس بات سے پریشان ہوں گے کہ بجلی کے بل آسمان کو چھو رہے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اسی وجہ سے، اب لوگ روایتی بجلی کے نظام سے بیزار ہو کر متبادل ذرائع کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور یہ تبدیلی صرف امیر طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر عام آدمی اس کی جانب راغب ہو رہا ہے۔میں نے خود بھی یہ محسوس کیا ہے کہ شمسی توانائی (سولر انرجی) کا استعمال ہمارے ملک میں تیزی سے بڑھا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں گلی محلوں سے لے کر بڑے شہروں تک ہر چھت پر سولر پینل نظر آنے لگے ہیں۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتا جا رہا ہے، اور ہمارے ملک کا توانائی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ لیکن کیا یہ سب اتنا آسان ہے؟ کیا شمسی توانائی ہر کسی کی پہنچ میں ہے؟ اور کیا حکومت اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے لیے تیار ہے؟یہ تو بس ایک پہلو ہے، اس کے علاوہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور ہمارے دریاؤں سے حاصل ہونے والی ہائیڈرو پاور کا کیا حال ہے؟ کیا ہم واقعی توانائی کے بحران سے نکلنے کی راہ پر ہیں، یا ابھی بہت سے چیلنجز باقی ہیں؟ یہ سارے سوالات میرے ذہن میں بھی اٹھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی ان کے جوابات جاننا چاہتے ہوں گے۔ آج ہم ان تمام پہلوؤں پر گہرائی سے نظر ڈالیں گے اور ملک میں متبادل توانائی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو تفصیل سے جانیں گے۔ مزید تفصیلات کے لیے نیچے پڑھیں۔

السلام علیکم میرے پیارے دوستو،

شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا رجحان اور گھر گھر روشنیاں

대체에너지의 국내 보급 현황 - **Prompt 1: "A serene and bustling Pakistani urban neighborhood, viewed from a slightly elevated per...

میرے پیارے پاکستانی بھائیو اور بہنو، جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ سے ذکر کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ اور لوڈ شیڈنگ کا جن ہمیں سکھ کا سانس نہیں لینے دیتا۔ ایسے میں، مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ شمسی توانائی ہمارے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ہمارے ملک کے کونے کونے میں، شہروں سے لے کر دیہاتوں تک، ہر چھت پر سولر پینل نصب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، یہ ایک بہت بڑا انقلاب ہے جو خاموشی سے ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ لوگ اب مہنگی اور غیر یقینی بجلی سے چھٹکارا پانے کے لیے سولر انرجی کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سمجھداری والا فیصلہ ہے۔ اب سولر پینل کی قیمتیں بھی کافی حد تک کم ہو چکی ہیں، جو کہ عام آدمی کے لیے بھی قابلِ برداشت ہو گئی ہیں۔ میں نے اپنے کچھ جاننے والوں کو بھی سولر لگواتے دیکھا ہے اور ان کے تجربات بہت مثبت رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جب ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، سولر انرجی کا انتخاب آپ کے ماہانہ بجٹ کو بہت زیادہ سکون دے سکتا ہے۔

سولر پینلز کی قیمتوں میں تاریخی کمی

دوستو، اگر آپ بھی میری طرح یہ سوچ رہے تھے کہ سولر پینل بہت مہنگے ہیں اور عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، تو اب ایسا بالکل نہیں ہے۔ میرے تازہ ترین مشاہدے کے مطابق، پاکستانی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک جو پینل 80 روپے فی واٹ پر مل رہا تھا، وہ اب 30 سے 32 روپے فی واٹ پر دستیاب ہے، یعنی نصف سے بھی کم قیمت پر! یہ واقعی ایک بہترین موقع ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے گھروں یا کاروبار کو شمسی توانائی پر منتقل کریں۔ میں نے خود بھی اس پر تحقیق کی ہے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ کمی بنیادی طور پر بین الاقوامی مارکیٹ میں لیتھیم بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی اور مقامی مارکیٹ میں پینلز کی اضافی سپلائی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب آپ دو لاکھ روپے میں 5 کلو واٹ کے پینلز خرید سکتے ہیں جو آسانی سے دو یا تین ایئر کنڈیشنر چلا سکتے ہیں۔ تاہم، یہ یاد رکھیں کہ اس میں انورٹر اور دیگر تنصیبی اخراجات شامل نہیں ہوتے۔

گھروں اور کاروباروں کے لیے شمسی توانائی کے فوائد

جب میں نے اپنے ایک کزن سے بات کی جس نے حال ہی میں اپنے گھر پر سولر سسٹم لگوایا ہے، تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی زندگی میں کتنا بڑا فرق آیا ہے۔ اس کے بجلی کے بل تقریباً آدھے ہو گئے ہیں اور وہ لوڈ شیڈنگ سے بھی آزاد ہے۔ اس نے کہا کہ یہ نہ صرف اس کے پیسے بچا رہا ہے بلکہ اسے ذہنی سکون بھی ملا ہے۔ شمسی توانائی ہمیں گرڈ سے بجلی لینے کی ضرورت سے آزادی دیتی ہے اور ہم اپنی بجلی خود پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ سبز توانائی ہے جو ماحول دوست بھی ہے اور CO₂ کے اخراج کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے، خاص طور پر جب ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سولر سسٹم کو کم دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ طویل عرصے تک چلتا ہے۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ کسان بھی اب اپنے ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کر رہے ہیں جس سے انہیں بہت سستی بجلی مل رہی ہے، تقریباً 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے، جبکہ گرڈ سے 24 روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ شمسی توانائی ہمارے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور ان کی اہمیت

دوستو، صرف سورج ہی نہیں، ہوا بھی ہمارے لیے بجلی پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور یہ اتنی زیادہ ہے کہ ہماری گرمیوں کی بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب سے بھی دو گنا زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے تک ونڈ پاور پر بہت کم بات ہوتی تھی، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ 2007 میں ملک میں صرف 750 میگاواٹ ہوا سے بجلی پیدا ہو رہی تھی، جو اب 2000 میگاواٹ تک بڑھ چکی ہے۔ سندھ کے علاقے جھمپیر میں کئی ونڈ پاور منصوبے کام کر رہے ہیں اور کے-الیکٹرک جیسے ادارے بھی شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کے ہائبرڈ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے کیونکہ یہ ہمیں توانائی کے متنوع ذرائع فراہم کرتے ہیں اور کسی ایک ذریعے پر انحصار کم کرتے ہیں۔ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی بھی صاف ستھری اور سستی ہوتی ہے، جو ہمارے ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ونڈ پاور کی صلاحیت اور اس کے چیلنجز

پاکستان کے مختلف علاقوں میں، خاص طور پر سندھ کے ساحلی پٹی پر، ہوا کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے، جہاں 50,000 میگاواٹ تک سستی اور شفاف بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے۔ عالمی ادارے بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں۔ مجھے تو یہ سن کر خوشی ہوتی ہے کہ اگر ہم اپنی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا صرف ایک حصہ بھی استعمال کر لیں تو 18 سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی باآسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر اس میں کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ ونڈ پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے بڑی جگہ درکار ہوتی ہے اور ان کی ابتدائی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہوا کی رفتار کا مستقل نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ونڈ ٹربائنز کی مقامی تیاری اور اسمبلنگ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو کہ مستقبل میں ان منصوبوں کو مزید سستا اور قابل رسائی بنائے گی۔

مستقبل کے ہائبرڈ منصوبے

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ کے-الیکٹرک پاکستان کا پہلا شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کرنے والا ہائبرڈ منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے لیے 220 میگاواٹ کی 7 بولیاں موصول ہوئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نجی شعبہ بھی اس جانب متوجہ ہو رہا ہے۔ ایسے ہائبرڈ منصوبے ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہیں کیونکہ یہ شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والی توانائی دونوں کے فوائد کو یکجا کرتے ہیں۔ جب سورج نہ ہو تو ہوا سے بجلی پیدا ہو سکتی ہے اور جب ہوا کم ہو تو سورج سے۔ یہ ایک مستقل اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ میرے نزدیک یہ توانائی کے بحران سے نکلنے کا ایک بہترین راستہ ہے اور ہمیں ایسے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے۔

Advertisement

پن بجلی: دیرینہ اور قابل اعتماد ذریعہ

میرے پیارے دوستو، ہمارے ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک بہت پرانا اور قابل اعتماد ذریعہ پن بجلی (ہائیڈرو پاور) ہے۔ ہمارے پہاڑوں سے بہنے والے دریا توانائی کا ایک بہت بڑا خزانہ ہیں اور ہم صدیوں سے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں 60,000 میگاواٹ سے زیادہ ہائیڈل پاور پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن ہم ابھی اس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ استعمال کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے بچپن میں بھی ڈیموں کی اہمیت کے بارے میں سنا تھا اور آج بھی یہ اتنی ہی اہم ہیں۔ ڈیم نہ صرف بجلی پیدا کرتے ہیں بلکہ پانی کو ذخیرہ کرنے اور زراعت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ماحول دوست بھی ہیں اور سستی بجلی فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں پن بجلی کے بڑے منصوبے

اس وقت پاکستان میں کئی بڑے پن بجلی کے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں جو ہماری توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے آئندہ چند سالوں میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ خاص طور پر، کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 720 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی اور کوہالہ پن بجلی منصوبہ 1124 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ منصوبے نہ صرف ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کریں گے بلکہ ملک کو صاف اور سستی بجلی بھی مہیا کریں گے۔ میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ اگر ہم اپنی پانی کی صلاحیت کا صحیح استعمال کر لیں تو ہم توانائی کے بحران کو بہت حد تک حل کر سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 300 سے زائد چھوٹے ہائیڈرو پاور پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں جو دور دراز علاقوں کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔

موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

اگرچہ پن بجلی ایک بہترین ذریعہ ہے، لیکن اس کے اپنے چیلنجز بھی ہیں۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر میں بہت وقت اور سرمایہ لگتا ہے۔ اس کے علاوہ، بعض اوقات ڈیموں کی تعمیر سے ماحولیاتی اور سماجی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ہمارے پاس یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو بہت سستی اور قابل اعتماد توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پن بجلی کے منصوبوں پر مزید توجہ دے اور انہیں تیزی سے مکمل کرے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان اگر اپنی ہائیڈرو پاور صلاحیت کا مکمل استعمال کرے تو یہ ملک کی تمام بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ ہمیں اپنی قدرتی دولت کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

متبادل توانائی کی پالیسیاں اور حکومتی اقدامات

دوستو، یہ جان کر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ ہماری حکومت بھی متبادل توانائی کے فروغ کے لیے سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ ماضی میں ہم نے پالیسیوں میں کچھ سست روی دیکھی ہے، لیکن اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے 2025 تک 25 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ایک بہت اچھا قدم ہے، اور اگر ہم اس ہدف کو حاصل کر لیں تو ہمارے توانائی کے مسائل بہت حد تک حل ہو سکتے ہیں۔ میں نے خود وزیراعظم صاحب کے بیانات سنے ہیں کہ وہ شمسی توانائی کے فروغ کو اپنی ترجیح قرار دے رہے ہیں اور اس حوالے سے عوام میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔

حکومتی ترجیحات اور مراعات

نئی قابل تجدید توانائی پالیسی 2019 کے تحت شمسی، ہوا اور دیگر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو خصوصی مراعات اور ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے۔ میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ حکومت مقامی طور پر ونڈ ٹربائنز اور سولر پینلز کی تیاری اور اسمبلنگ پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اس سے نہ صرف ہماری معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ہم توانائی کے میدان میں خود کفیل بھی بنیں گے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اگر حکومت اسی طرح شفاف اور موثر پالیسیاں بناتی رہے تو ہم بہت جلد ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری

پاکستان متبادل توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور چین جیسے ممالک کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس سے ہمیں جدید ٹیکنالوجی اور مالی مدد ملتی ہے۔ میں نے ایک رپورٹ میں پڑھا ہے کہ کے-الیکٹرک کے ایک ہائبرڈ پروجیکٹ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے تقریباً 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی برادری کو بھی پاکستان کے قابل تجدید توانائی کے شعبے پر بھروسہ ہے۔ یہ تعاون ہمارے لیے نئے راستے کھولے گا اور ہمیں توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدد دے گا۔

Advertisement

توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے عملی تجاویز

میرے دوستو، ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے توانائی کے بحران کا شکار ہے اور اس نے ہماری معیشت اور روزمرہ کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بجلی کی قلت اور مہنگی بجلی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ میں نے خود بھی اس مسئلے پر بہت سوچا ہے اور کچھ عملی تجاویز مجھے بہت کارآمد لگتی ہیں۔

گھریلو سطح پر بچت اور ہوشیاری

سب سے پہلے تو ہمیں اپنے گھروں میں بجلی کی بچت کی عادت ڈالنی ہوگی۔ بلاوجہ لائٹس اور پنکھے کھلے نہ چھوڑیں، غیر ضروری برقی آلات کا استعمال کم کریں۔ میں نے خود بھی یہ تجربہ کیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بچتیں مل کر بہت بڑا فرق پیدا کرتی ہیں۔ انرجی سیور بلب کا استعمال کریں اور نئے الیکٹرانک آلات خریدتے وقت ان کی انرجی ایفیشینسی کا خیال رکھیں۔ اس کے علاوہ، ہم اپنے گھروں میں سولر پینل لگا کر بھی بہت زیادہ بجلی بچا سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ سولر پینل اب سستے ہو گئے ہیں اور یہ آپ کے بجلی کے بلوں کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ یہ سب سے بہترین حل ہے ایک عام آدمی کے لیے۔

صنعتوں اور زراعت میں متبادل توانائی کا استعمال

ہماری صنعتوں اور زراعت کو بھی متبادل توانائی پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتوں میں مہنگی بجلی کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارف پر پڑتا ہے۔ اگر صنعتیں سولر یا دیگر متبادل ذرائع استعمال کریں تو وہ سستی بجلی حاصل کر سکتی ہیں اور اپنی مصنوعات کی قیمتوں کو بھی کم کر سکتی ہیں۔ اسی طرح، کسانوں کے لیے شمسی توانائی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ بہت کم لاگت میں اپنے ٹیوب ویلز چلا سکتے ہیں اور اپنی فصلوں کو سیراب کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان شعبوں میں متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مزید مراعات اور آسان قرضوں کی سہولیات فراہم کرے۔

متبادل توانائی کا معیشت پر مثبت اثر

대체에너지의 국내 보급 현황 - **Prompt 2: "A breathtaking panoramic landscape of Pakistan showcasing its diverse natural beauty an...

میرے بھائیو اور بہنو، میں یہ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ متبادل توانائی صرف ہمارے گھروں کو روشن نہیں کرے گی، بلکہ ہماری پوری معیشت پر اس کے گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میں نے خود بھی اس پر کافی تحقیق کی ہے اور جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں وہ بہت حوصلہ افزا ہیں۔ جب ہم تیل اور گیس کی درآمد پر انحصار کم کریں گے تو ہمارا قیمتی زرمبادلہ بچے گا۔ فی الحال پاکستان سالانہ 27 ارب ڈالر سے زیادہ تیل اور گیس کی درآمد پر خرچ کرتا ہے، اگر یہ رقم بچ جائے تو ہم اسے اپنی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکتے ہیں۔

روزگار کے نئے مواقع اور مقامی صنعت کا فروغ

متبادل توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سولر پینل کی تنصیب، دیکھ بھال، اور ونڈ ٹربائنز کی تیاری جیسے شعبوں میں ہنر مند افراد کی ضرورت ہوگی۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پاکستان میں سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے جس سے ہماری اپنی صنعتیں مضبوط ہوں گی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ یہ سب ہماری معیشت کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔ جب میں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو سولر انرجی کے کاروبار سے وابستہ ہے، تو اس نے بتایا کہ اس شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور نوجوانوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے۔

پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ

متبادل توانائی ہمیں پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ جب ہم صاف ستھری توانائی استعمال کریں گے تو ماحول پر منفی اثرات کم ہوں گے، آلودگی میں کمی آئے گی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بڑے ہمیشہ سے ماحول کو صاف رکھنے کی بات کرتے تھے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور صاف ستھرا پاکستان چھوڑ کر جائیں۔ متبادل توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ہمارے توانائی کے مسائل کو حل کرے گی بلکہ ہمیں ایک صحت مند اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جائے گی۔ میں تو یہی کہوں گا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سب اس خاموش انقلاب کا حصہ بنیں اور ایک روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

Advertisement

متبادل توانائی کی اقسام کا مختصر جائزہ

میرے پیارے پڑھنے والو، مجھے یقین ہے کہ اب آپ متبادل توانائی کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو چکے ہوں گے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ توانائی کتنی اقسام کی ہوتی ہے؟ آئیے، میں آپ کو مختصر طور پر کچھ اہم اقسام کے بارے میں بتاتا ہوں، تاکہ آپ کو ایک جامع تصویر مل سکے۔ روایتی ذرائع جیسے تیل، گیس، اور کوئلہ جو ہمارے ماحول کو آلودہ کرتے ہیں اور مہنگے بھی ہوتے جا رہے ہیں، ان سے ہٹ کر اب ہمیں ان قدرتی اور سستے ذرائع پر توجہ دینی ہو گی۔

شمسی توانائی

یہ توانائی سورج کی روشنی سے حاصل ہوتی ہے، جسے سولر پینلز کے ذریعے بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ مقبول اور تیزی سے پھیلنے والا متبادل توانائی کا ذریعہ ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں، یہ گھروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے سب سے آسان اور مؤثر حل ہے۔ دن کے وقت جب سورج خوب چمک رہا ہو، آپ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ اضافی بجلی گرڈ کو واپس بھی بھیج سکتے ہیں جسے نیٹ میٹرنگ کہتے ہیں۔

ہوائی توانائی (ونڈ انرجی)

یہ ہوا کی طاقت کو ونڈ ٹربائنز کے ذریعے بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان میں سندھ کے ساحلی علاقوں میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور اس پر کافی کام بھی ہو رہا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ قدرت نے ہمیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے، بس ہمیں ان کا صحیح استعمال کرنا آنا چاہیے۔

پن بجلی (ہائیڈرو پاور)

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، یہ بہتے پانی کی طاقت سے بجلی پیدا کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں ڈیموں اور دریاؤں سے اس کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت پرانا اور انتہائی قابل اعتماد ذریعہ ہے، اور اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ایک بار کے بڑے خرچے کے بعد بہت سستی بجلی فراہم کرتی ہے۔

بائیو ماس اور دیگر ذرائع

بائیو ماس میں فصلوں کی باقیات، جانوروں کے فضلات (گوبر) اور دیگر نامیاتی مادوں سے گیس یا بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر دیہی علاقوں کے لیے بہت مؤثر حل ہو سکتا ہے، جہاں کسان اپنے گوبر سے بائیو گیس پیدا کرکے کھانا پکانے اور بجلی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ارضی حرارتی توانائی اور لہروں سے توانائی بھی متبادل ذرائع ہیں جن پر دنیا میں کام ہو رہا ہے، اگرچہ پاکستان میں ان پر ابھی بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔

متبادل توانائی کا ذریعہ اہمیت پاکستان میں صلاحیت فوائد
شمسی توانائی گھروں اور کاروبار کے لیے سستی بجلی وسیع (دنیا میں سب سے زیادہ درآمد کرنے والے ممالک میں شامل) کم بل، ماحول دوست، دیکھ بھال میں آسان
ہوائی توانائی توانائی کی طلب پوری کرنے میں معاون 50,000 میگاواٹ سے زیادہ صاف، سستی، گرڈ پر بوجھ کم
پن بجلی دیرینہ اور قابل اعتماد ذریعہ 60,000 میگاواٹ سے زیادہ سستی بجلی، پانی کا ذخیرہ، ماحول دوست
بائیو ماس دیہی علاقوں میں مقامی حل فصلوں کی باقیات اور گوبر کی دستیابی کھانا پکانے اور بجلی، فضلے کا انتظام

متبادل توانائی کو اپنانے میں درپیش چیلنجز اور ان کا حل

میرے دوستو، کسی بھی بڑے انقلاب کی طرح، متبادل توانائی کو پوری طرح اپنانے میں بھی کچھ چیلنجز کا سامنا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ ان کے بارے میں سوچتے ہوں گے، اور میں بھی ان پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ لیکن یاد رہے کہ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔

مالی رکاوٹیں اور ابتدائی لاگت

ایک سب سے بڑا مسئلہ شمسی توانائی یا ونڈ پاور سسٹم کی ابتدائی تنصیبی لاگت ہے۔ اگرچہ پینلز کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، پھر بھی ایک مکمل سسٹم لگوانے کے لیے خاصی رقم درکار ہوتی ہے۔ میرے بہت سے دوست اس وجہ سے ہچکچاتے ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ آسان اقساط پر قرضے فراہم کرے یا سبسڈی دے تاکہ عام آدمی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بینکوں نے کچھ اسکیمیں شروع کی ہیں، لیکن انہیں مزید آسان اور قابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے۔

گرڈ کا پرانا ڈھانچہ اور نیٹ میٹرنگ کے مسائل

ہمارا موجودہ بجلی کا گرڈ نظام کافی پرانا ہے اور وہ متبادل توانائی کو بڑے پیمانے پر ضم کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔ بعض اوقات نیٹ میٹرنگ کے عمل میں بھی رکاوٹیں آتی ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری نظر میں، حکومت کو گرڈ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور نیٹ میٹرنگ کے عمل کو مزید ہموار بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر ہم واقعی متبادل توانائی کے فروغ چاہتے ہیں، تو یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔

آگاہی اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی

بعض اوقات لوگوں کو متبادل توانائی کے فوائد اور اس کے استعمال کے طریقوں کے بارے میں پوری آگاہی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ، اس شعبے میں ہنر مند افرادی قوت کی بھی کمی ہے جو سسٹم کو صحیح طریقے سے نصب کر سکے اور اس کی دیکھ بھال کر سکے۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ اگر صحیح معلومات اور تربیت دستیاب ہو تو لوگ زیادہ اعتماد سے متبادل توانائی کو اپنائیں گے۔ حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ آگاہی مہم چلائیں اور نوجوانوں کو اس شعبے میں تربیت فراہم کریں تاکہ وہ اس نئی صنعت کا حصہ بن سکیں۔ یہ چیلنجز بڑے ضرور ہیں، لیکن اگر ہم سب مل کر کام کریں تو انہیں حل کیا جا سکتا ہے اور ہم ایک روشن، صاف اور خود کفیل پاکستان کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

Advertisement

글을 마치며

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بہنو، جیسا کہ میں نے آپ کے ساتھ شمسی، ہوائی اور پن بجلی سمیت متبادل توانائی کے مختلف پہلوؤں پر اپنی معلومات اور تجربات بانٹے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم پاکستانی اب اس پرانے اور مہنگے بجلی کے نظام سے آزادی حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ایک کے بعد ایک گھر اور کاروبار شمسی توانائی کو اپنا رہے ہیں، اور یہ تبدیلی ہمارے ملک کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ صرف بجلی کے بل کم کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف اور سبز ماحول چھوڑنے کی ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ مجھے دلی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم سب مل کر اس سفر میں حصہ لیں، تو ہم توانائی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جسے ہم سب کو خوش آمدید کہنا چاہیے اور اپنی ذاتی کوششوں سے اسے مزید فروغ دینا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں ایک دن بہت بڑا فرق پیدا کریں گی اور ہمارا پاکستان توانائی کے میدان میں خود کفیل ہو کر دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کرے گا۔

알아두면 쓸모 있는 정보

1. شمسی پینلز کی قیمتوں کا موازنہ: بازار میں مختلف برانڈز اور سپلائرز کے پینلز کی قیمتوں کا اچھی طرح موازنہ کریں۔ سستی قیمتوں کے ساتھ ساتھ معیار کو بھی مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ آپ کو طویل عرصے تک فائدہ ہو اور آپ کی سرمایہ کاری محفوظ رہے۔ ہمیشہ کسی مستند ڈیلر سے خریداری کریں اور وارنٹی کی تفصیلات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

2. نیٹ میٹرنگ کی افادیت کو سمجھیں: اگر آپ کا سولر سسٹم اضافی بجلی پیدا کرتا ہے، تو آپ اسے گرڈ کو واپس بیچ کر نہ صرف اپنے بل کو مزید کم کر سکتے ہیں بلکہ کچھ آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے علاقے کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے نیٹ میٹرنگ کے طریقہ کار اور شرائط کے بارے میں ضرور معلومات حاصل کریں۔

3. حکومتی مراعات اور آسان قرضوں سے فائدہ اٹھائیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے مختلف مراعات اور آسان اقساط پر قرضوں کی سکیمیں پیش کرتی ہے۔ ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور اگر آپ اہل ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی ابتدائی سرمایہ کاری کا بوجھ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔

4. ماہرین کی خدمات حاصل کریں: سولر سسٹم کی تنصیب ایک تکنیکی کام ہے، اس لیے ہمیشہ کسی تجربہ کار اور مستند کمپنی یا ماہر کاریگر سے ہی کام کروائیں۔ غلط تنصیب سے سسٹم کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ صحیح تنصیب سے سسٹم کی عمر اور افادیت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔

5. اپنی ضروریات کا اندازہ لگائیں: سولر سسٹم لگوانے سے پہلے اپنی بجلی کی کھپت کا درست اندازہ لگائیں۔ اس سے آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی کہ آپ کو کتنے کلو واٹ کا سسٹم درکار ہے تاکہ آپ کی ضروریات پوری ہو سکیں اور آپ کے پیسے بھی ضائع نہ ہوں۔ کسی ایکسپرٹ سے مشاورت اس سلسلے میں بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

Advertisement

중요 사항 정리

میرے بلاگ پڑھنے والے ساتھیو، آج کی اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک حقیقت ہے، لیکن ہم اس پر قابو پانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، اور پن بجلی کے وسیع ذخائر ہمیں ایک روشن مستقبل کی امید دلاتے ہیں۔ یہ صرف حکومتی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ ہم اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں تاریخی کمی نے اب عام آدمی کے لیے بھی شمسی توانائی کو قابل رسائی بنا دیا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کس طرح یہ اقدام لوگوں کے ماہانہ بجٹ کو سکون دے رہا ہے اور انہیں لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلا رہا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں بجلی کی بچت اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ نہ صرف ہمارے پیسے بچائے گا بلکہ ہماری معیشت کو مضبوط کرے گا، نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، اور سب سے اہم، ہمارے ماحول کو صاف ستھرا بنائے گا۔ میں پر امید ہوں کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک توانائی میں خود کفیل اور سبز ملک بنا سکتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں متحد ہو کر اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہیے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: سولر سسٹم لگوانے کا ابتدائی خرچ کتنا آتا ہے اور کیا یہ عام آدمی کی پہنچ میں ہے؟

ج: جی ہاں، یہ ایک بہت اہم سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں آتا ہے۔ میں نے خود جب سولر لگوانے کا سوچا تھا تو سب سے پہلے یہی پریشانی تھی کہ کہیں بہت مہنگا نہ پڑ جائے۔ لیکن میرے پیارے دوستو، میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اب سولر سسٹم پہلے سے کہیں زیادہ سستے ہو گئے ہیں۔ آپ کو مختلف سائز کے سسٹم ملتے ہیں، چھوٹے گھروں کے لیے 100,000 روپے سے لے کر 300,000 روپے تک کا سسٹم لگ سکتا ہے جو آپ کے کچھ بنیادی اپلائنسز جیسے پنکھے، لائٹس اور فریج چلا سکتا ہے۔ بڑے گھروں کے لیے 500,000 روپے سے اوپر بھی جاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک بار کی سرمایہ کاری ہے، اور میں نے خود دیکھا ہے کہ پہلے جو بجلی کا بل مہینے کا 20,000 سے 30,000 روپے آتا تھا، وہ اب 2,000 سے 3,000 روپے پر آ گیا ہے۔ سوچیں، کتنی بڑی بچت!
میرے ایک دوست نے بتایا کہ اس نے جو سسٹم لگوایا تھا، اس کی قیمت 4 سال میں ہی پوری ہو گئی تھی، اور اب وہ مفت بجلی استعمال کر رہا ہے۔ تو، میری ذاتی رائے میں، یہ اب عام آدمی کی پہنچ میں ہے، بس تھوڑی سی منصوبہ بندی اور صحیح انتخاب کی ضرورت ہے۔ کئی بینک آسان اقساط پر بھی سولر پینل فراہم کر رہے ہیں، جو اس سرمایہ کاری کو مزید آسان بناتا ہے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو مستقبل میں آپ کے لیے بہت بڑا سکون کا باعث بن سکتی ہے۔

س: سولر سسٹم لگانے کے بعد کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

ج: یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی 100 فیصد مسائل سے پاک نہیں ہوتی، اور سولر سسٹم کے ساتھ بھی کچھ چیلنجز آ سکتے ہیں۔ میں نے خود اور اپنے جاننے والوں نے جو مسائل دیکھے ہیں، ان میں سب سے پہلے تو بیٹریوں کا مسئلہ آتا ہے۔ بیٹریاں ایک مخصوص عمر رکھتی ہیں اور کچھ سالوں بعد انہیں تبدیل کرنا پڑتا ہے، جس کا خرچ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ لیکن اب زیادہ تر لوگ آن گرڈ (On-Grid) سسٹم لگواتے ہیں جس میں بیٹریوں کی ضرورت کم پڑتی ہے، یا پھر انورٹر بیٹریوں کی جگہ ڈائریکٹ گرڈ سے کنیکٹ ہو کر کام کرتا ہے۔ دوسرا مسئلہ کبھی کبھار مینٹیننس کا ہوتا ہے، جیسے پینلز پر مٹی جمنا یا کوئی وائرنگ کا ایشو۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر 6 ماہ بعد یا سال میں ایک بار کسی ماہر سے اپنے سسٹم کا چیک اپ کروائیں اور پینلز کو باقاعدگی سے صاف کرتے رہیں۔ بارش کے بعد تو وہ خود ہی صاف ہو جاتے ہیں، ورنہ آپ خود بھی ان پر پانی ڈال سکتے ہیں۔ میرے ایک چچا نے غلط کمپنی سے سولر لگوا لیا تھا جس کی سروس اچھی نہیں تھی، تو میں آپ کو یہی مشورہ دوں گا کہ کسی مستند اور اچھی سروس والی کمپنی سے ہی سولر لگوائیں۔ یہ مسائل چھوٹے لگتے ہیں لیکن ان کا بروقت حل آپ کے سسٹم کی کارکردگی کو بہترین رکھتا ہے اور آپ کی پریشانی کو کم کرتا ہے۔ یاد رکھیں، ایک بار کی صحیح سرمایہ کاری آپ کو لمبے عرصے کے لیے پریشانی سے بچاتی ہے۔

س: سولر کے علاوہ پاکستان میں متبادل توانائی کے کون سے ذرائع قابلِ عمل ہیں اور ان کا مستقبل کیسا ہے؟

ج: یہ ایک زبردست سوال ہے اور میں ہمیشہ سے اس پر بات کرنا چاہتا تھا۔ پاکستان میں سولر کے علاوہ بھی توانائی کے کئی بہترین متبادل موجود ہیں، اور میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ان پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے (Wind Energy) ہیں، خاص طور پر سندھ کے ساحلی علاقوں میں جہاں ہوا کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ میں نے خود تھر کے قریب ونڈ فارمز دیکھے ہیں اور ان کی وسعت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ حکومت بھی اس پر کام کر رہی ہے اور ایسے منصوبے قومی گرڈ میں سستی بجلی شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسرا بڑا ذریعہ ہائیڈرو پاور (Hydro Power) ہے، یعنی ڈیموں اور دریاؤں سے بجلی پیدا کرنا۔ ہمارے ملک میں بڑے بڑے دریا ہیں جن سے ہم بہت زیادہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ مہمند ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے اسی سمت میں اہم قدم ہیں۔ اس کے علاوہ، بائیوماس انرجی (Biomass Energy) بھی ایک آپشن ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں زرعی فضلہ اور جانوروں کا گوبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کا ایک اچھا اور ماحول دوست ذریعہ بن سکتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم ان تمام ذرائع پر ایک ساتھ کام کریں تو توانائی کے بحران پر قابو پانا کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔ حکومت کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ ہمارا ملک توانائی کے میدان میں خود کفیل ہو سکے اور ہم لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔